مری خامشی کے سوال سن مرا حال سن

مری خامشی کے سوال سن مرا حال سن
مرے دل میں ہے جو ملال سن، مرا حال سن

مرا ساتھ دینے کو رہ گئی، مری بے بسی
مری بے بسی کے کمال سن، مرا حال سن

مرے دل سے کان لگا کبھی ذرا غور کر
مری دھڑکنوں کی دھمال سن، مرا حال سن

مجھے وصل عرصہ ء کم لگا….کوئی دم لگا
مرے ہجر کے ہیں جو سال سن، مرا حال سن

مجھے یاد کر کے نہ رویا کر، تجھے بارہا
یہ کہا نہ تھا؟ مرا حال سن، مرا حال سن!!!

میں وہی تمہارا صغیر ہوں جو صغیر تھا
مری دو منٹ کی ہی کال سن مرا حال سن

صغیر احمد صغیر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی