میری فغاں کو باب اثر کی تلاش ہے

میری فغاں کو باب اثر کی تلاش ہے
اس خانماں خراب کو گھر کی تلاش ہے

شبنم! تیرے ان آئنہ خانوں کی خیر ہو
میرے چمن کو برق و شرر کی تلاش ہے

بیٹھا ہوا ہوں غیر کے در پر شکستہ پا
کس مہ سے میں کہوں ترے در کی تلاش ہے

جس کی ضیا ہو دسترس شام غم سے دور
دنیا کو ایک ایسی سحر کی تلاش ہے

باقیؔ ہے ٹوٹنے کو اب امید کا طلسم
اک آخری فریب نظر کی تلاش ہے

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے