میرے مولا! میری لاج رکھنا

میرے مولا! میری لاج رکھنا

سب جانتا ہے۔۔۔ تُو سب سنتا ہے
اے میرے خدا۔۔۔ تجھے سب دِکھتا ہے
تُو حاضر ہے، تُو ناظر بھی
تو ہر اِک شے پر قادر بھی
پھرتُو ہی بتاکہ تیرے بندے
بانٹیں جب بھی رِزق یا چندے
کیوں تصویر بازی کرتے ہیں؟
یہ کس کو راضی کرتے ہیں؟؟؟
میرے مولا! میری لاج رکھنا
مجھے بس اپنا محتاج رکھنا
کیونکہ۔۔۔
بیچارگی و مفلسی کی، زندگی سے ڈر لگتا ہے
تصویر باز کے لقمے کی،شرمندگی سے ڈر لگتا ہے

طارق اقبال حاویؔ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا