میرے محرماں

سنو ۔۔۔!
میرے محرماں۔۔۔
تھے تم تو میرا سائباں
میں نے جانا
تجھ کو مہرباں
تھی میری یہ
خام خیالیاں
تم تو نکلے ایسا سائیاں
جو تھا۔۔
جگہ جگہ سے
چھیدا ھوا
کٹا ھوا پھٹا ھوا
زمانے کی ھوائے صرصر کو
تم روکتے کیا مہرباں
تم نے بانٹا ٹکڑوں
میں مری ذات کو
اور تکمیل کی
اپنی ذات کی
رہی ۔۔۔!
میری ذات بے نام و نشاں

اسماء بتول

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی