میں یوں جہاں کے خواب سے

میں یوں جہاں کے خواب سے تنہا گزر گیا

جیسے کہ ایک دشت سے دریا گزر گیا

یوں جگمگا اٹھا ہے تری یاد سے وجود

جیسے لہو سے کوئی ستارہ گزر گیا

گزرا مرے قریب سے وہ اس ادا کے ساتھ

رستے کو چھو کے جس طرح رستہ گزر گیا

منظر میں گھل گئے ہیں دھنک کے تمام رنگ

بے رنگ آئنے سے وہ لمحہ گزر گیا

 

فہیم شناس کاظمی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا