میں سوچتی ہوں کہ

Oplus_131072

میں سوچتی ہوں کہ اے رب فرات کیوں نہیں کی
کشادہ ہم پہ زمین حیات کیوں نہیں کی

کسی نے پوچھا ہے گھبرا کے جانے والوں سے
بسر سرائے میں اک اور رات کیوں نہیں کی

بس اتنی بات پہ منصف سزائیں دیتا رہا
قبول شہر کے لوگوں نے مات کیوں نہیں کی

بندھے تھے ہاتھ ہمارے سو ہم سے مت پوچھو
اٹھا کے ہاتھ دعائے نجات کیوں نہیں کی

مرا تو زخم ہی ناسور بن گیا تو نے
علاج کرتے ہوئے احتیاط کیوں نہیں کی

مرے قبیلے کے سردار وہ منافق ہیں
زبان کاٹ کے کہتے ہیں بات کیوں نہیں کی

کومل جوئیہ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی