میں سادہ دل ہوں کہ رکھتا ہوں ایک ہی چہرہ

میں سادہ دل ہوں کہ رکھتا ہوں ایک ہی چہرہ
وگرنہ روز بدلتے ہیں آدمی چہرہ

عجیب چیز ہے نیرنگی ء جمال دوست
کبھی گلاب ، کبھی آئنہ ، کبھی چہرہ

لہو میں دوڑ رہا ہے طلسم نیم شبی
وہی چراغ کی مدھم سی لو وہی چہرہ

کسی کے عارض و لب دیکھ کر یقیں آیا
نکھارتی ہے محبت کی شعلگی چہرہ

خدا کے حسن تخیل کی انتہا تم ہو
تمہارا چہرہ ہے دنیا کا آخری چہرہ

ازل ابد کے حقیقت شناس ہیں انصر
یہ حسرتی سی نگاہیں یہ حیرتی چہرہ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا