میں نے سوچا کچھ ایسا نصاب لکھتے ہیں

میں نے سوچا کچھ ایسا نصاب لکھتے ہیں
میرا عنوان تم ہو ایسی کتاب لکھتے ہیں

جو اس نے کہا،جو أس نے پوچھا
جلنے والوں کے سب سوالوں کا جواب لکھتے ہیں۔

جو بیاں نہ ہووے ہو حقیقت میں
وہ سب خیال وہ سارے خواب لکھتے ہیں

جو بیٹھے ہیں دائیں بائیں کندھوں پر
یہ میری جاں بس حساب لکھتے ہیں

ادب ملحوظ رکھتے ہے کچھ ایسے
ہم ہمیشہ انہیں جناب لکھتے ہیں

جو جیے جائے بن محبت کے چلو، تہمینہ
ایسے ویسوں کا خانہ خراب لکھتے ہیں

تہمینہ مرزا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

1 تبصرہ

زین چیمہ مارچ 18, 2020 - 10:23 صبح
ماشااللہ بہت عمدہ غزل
Add Comment