میں کسے سنا رہا ہوں

میں کسے سنا رہا ہوں یہ غزل محبتوں کی
کہیں آگ سازشوں کی ، کہیں آنچ نفرتوں کی

کوئی باغ جل رہا ہے ، یہ مگر مری دعا ہے
مرے پھول تک نہ پہنچے یہ ہوا تمازتوں کی

مرا کون سا ہے موسم مرے موسموں کے والی
یہ بہار بے دلی کی ، یہ خزاں مروتوں کی

میں قدم بام و در میں انہیں جا کے ڈھونڈتا ہوں
وہ دیار نکہتوں کے ، وہ فضائیں چاہتوں کی

کہیں چاند یا ستارے ہوئے ہم کلام مجھ سے
کہیں پھول سیڑھیوں کے ، کہیں جھاڑیاں پتوں کی

مرے کاغذوں میں شاید کہیں اب بھی سو رہی ہو
کوئی صبح گلستاں کی ، کوئی شام پربتوں کی

کہیں دشت دل میں شاید مری راہ تک رہی ہو
وہ قطار جگنوں کی ، وہ مہک ہری راتوں کی

یہ نہیں کہ دب گئی ہے کہیں گرد روز و شب میں
وہ خلش محبتوں کی ، وہ کسک رفاقتوں کی

اعتبار ساجد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی