میں خطاکار ہونے والا تھا

میں خطاکار ہونے والا تھا
مجھ سے انکار ہونے والا تھا

کن کی آواز آگئی اِس کو
جسم بے کار ہونے والا

خود کو آواز دے کے روک لیا
ورنہ دیوار ہونے والا تھا

آپ کے ہجر نے بچایا اسے
دل یہ مسمار ہونے والا تھا

نیند سے پھر جگا دیا ہے مجھے
خود کو درکار ہونے والا تھا

طارق جاوید

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی