میں ہجر اور سکوت کو باہم ملاؤں گا

میں ہجر اور سکوت کو باہم ملاؤں گا
پھر اس کے بعد وصل کا نکتہ اٹھاؤں گا

کارِ ہوس نے عشق مرا کھوکھلا کیا
جتنا بھی ہو سکا اسے اتنا گھٹاؤں گا

ان واعظانِ شہرکو معلوم بھی نہیں
میں بندگی کے باب میں کیا کر دکھاؤں گا

جتنے مغالطے ہیں خرد کے نکال کر
حیرت سرائے عشق میں ہر دم نچاؤں گا

جل جاوں گا میں آگ میں یا پاوں گا دوام
جوبھی بنے گا خاک کا میں تو بناؤں گا

کوشش کروں گا نور سے ہو خاک مستفید
اک بار تیرے عرش سے میں سر لگاؤں گا

یہ عشق کے مقام کی ادنی مثال ہے
دنیا کو اپنے ہاتھ پہ دنیا دکھاؤں گا

ماجد درودِ پاک کی کثرت سے ایک دن
رستے پکاریں گے مجھے منزل میں پاؤں گا

ماجد جہانگیرمرزا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی