نیاز سواتی کی مزاحیہ قطعے

یہ سُنا ہے ہم نے ، جاری حکم یہ ہونے کو ہے
چائے دفتر میں نہ کوئی نوشِ جاں فرمائے گا
دفتروں میں اک یہی تو کام ہوتا ہے نیاز
ختم چائے ہو گئی تو کام کیا رہ جائے گا

***

خوبیاں رشوت کی جب مجھ پر نمایاں ہو گئیں
میری ساری مشکلیں فی الفور آساں ہو گئیں

***

میں نے اک بیوہ سے پوچھا یہ بتا اے نیک بخت
شوہر مرحوم نے چھوڑا ہے کیا تیرے لئے
وہ یہ بولی چل بسا وہ چھوڑ کر بارہ یتیم
ماسوا بچوں کے کچھ چھوڑا نہیں میرے لئے

 

نیاز سواتی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی