ماورا وقت سے اور سود و زیاں سے آگے

ماورا وقت سے اور سود و زیاں سے آگے
عشق آ پہنچا ہے خطرے کے نشاں سے آگے

اس لیے رب مری شہ رگ کے قریں رہتا ہے
میں نہ آ جاؤں کہیں کون و مکاں سے آگے

ہر نئے دکھ پہ وہ حیرت سے یہ دیکھے کہ مرا
ضبط ہے چار قدم آہ و فغاں سے آگے

قصۂ حور الگ شے ہے، مرا یار الگ
کیا حسیں شخص ہے وہ حسنِ بیاں سے آگے

یہ فقط آنکھ نہیں چشمِ بصیرت ہے میاں
میں اسے جا کے ملوں سرِ نہاں سے آگے

وہ تو رحمان ہے رحمان بھی ہے لامحدود
میں نے بھیجا ہی نہیں کچھ بھی یہاں سے آگے

اس کو پیچھے کی طرف جتنا بھی کھینچیں اظہر
تیر پھر تیر ہے رہتا ہے کماں سے آگے

اظہر عباس خان

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا