مولوی عبدالحق اور اُردو زبان

بابائے اُردو: مولوی عبدالحق اور اُردو زبان کی بقا

اردو زبان کی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کو اُردو کے فروغ کے لیے وقف کر دیا۔ مولوی عبدالحق ان میں سب سے نمایاں ہیں اور انہیں اُردو کے بابا کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ یہ لقب بلا وجہ نہیں۔ مولوی عبدالحق نے نہ صرف اردو کی تدریس اور تحقیق میں اہم کردار ادا کیا بلکہ ادب، لغت اور گرامر میں ایسی بنیاد رکھی جو آج بھی آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

مولوی عبدالحق 1872ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے زمانے میں اردو پر مغربی اثرات اور دیگر مقامی زبانوں کا دباؤ تھا۔ اس دور میں اردو کو علمی اور ادبی اعتبار سے مضبوط رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ مولوی عبدالحق نے اسے اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ ان کا یقین تھا کہ اردو صرف بول چال کی زبان نہیں بلکہ ایک علمی و ادبی سرمایہ بھی ہے جسے محفوظ رکھنا ہر اہل قلم کی ذمہ داری ہے۔

ان کی سب سے اہم خدمات میں اردو کی تدریس اور نصابی کتب کی تصنیف شامل ہیں۔ انہوں نے گرامر کی تحقیق کی، قواعد کو واضح انداز میں پیش کیا اور لفظیات، محاورات، اور املا پر توجہ دی۔ اس کام نے اردو کو علمی بنیاد فراہم کی اور نئی نسل کو درست اصولوں کے مطابق سیکھنے کا موقع دیا۔

لغت سازی میں بھی مولوی عبدالحق کا کردار غیر معمولی رہا۔ انہوں نے اردو لغت کو جامع اور جدید استعمال کے مطابق ترتیب دیا۔ الفاظ کی وضاحت، تلفظ اور استعمال کے طریقے اتنے دقیق بیان کیے گئے کہ آج بھی یہ لغت طلبہ اور محققین کے لیے معتبر ماخذ ہے۔ کئی ایسے الفاظ جو گم ہونے کے خطرے میں تھے، ان کی کوششوں سے دوبارہ زندہ ہوئے اور اردو میں اپنی جگہ قائم رکھی۔

ادب کے میدان میں انہوں نے قدیم اردو ادب کو جمع کیا، نسخوں کی تصحیح کی اور نوجوانوں کے لیے قابل فہم انداز میں پیش کیا۔ ساتھ ہی اردو کے شاعروں اور ادیبوں پر تنقیدی مضامین بھی لکھے، جس سے ادبی مباحث میں معیار قائم ہوا اور اردو ادب کو نئی علمی شناخت ملی۔

مولوی عبدالحق نے اردو کو قومی اور ثقافتی اہمیت دینے کی بھی کوشش کی۔ وہ اسے صرف تعلیمی یا ادبی زبان کے طور پر نہیں دیکھتے تھے، بلکہ قومی یکجہتی اور ثقافتی شناخت کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔ ان کے مطابق اردو کے فروغ کے بغیر معاشرتی ترقی ممکن نہیں۔

انہوں نے اردو کے فروغ کے لیے مختلف اداروں اور تنظیموں میں حصہ لیا، محافل اور کانفرنسوں میں شریک ہوئے اور نئے اسکالرز کو تربیت دی۔ اس طرح اردو کے مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد رکھی گئی۔

مولوی عبدالحق کی زندگی اصولی اور اخلاقی معیار کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے ہمیشہ سچائی، ایمانداری اور محنت کو اپنا نصب العین بنایا۔ اردو کی خدمت میں انہوں نے ذاتی مفاد کو کبھی مقدم نہیں رکھا۔ اسی وجہ سے آج انہیں اردو کا بابا کہا جاتا ہے۔

مولوی عبدالحق کی خدمات آج بھی ہمارے لیے سبق آموز ہیں۔ یہ یاد دلاتی ہیں کہ زبان صرف بولنے یا لکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ہماری ثقافت، شناخت اور فکری ورثے کا آئینہ ہے۔ اردو کو قائم اور مضبوط رکھنے کے لیے ہمیں بھی ان کی طرح اس کی خدمت کرنی ہوگی۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ مولوی عبدالحق صرف ایک شخص نہیں تھے، بلکہ اردو کے لیے ایک تحریک اور روشن رہنما تھے۔ ان کی محنت اور قربانی کی بدولت اردو آج بھی زندہ، مستحکم اور نئی نسل کے لیے رہنمائی فراہم کر رہی ہے۔

یوسف صدیقی

Related posts

خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

انجمن پنجاب

تنقید کیا ہے