مستی کے پھر آ گئے زمانے

مستی کے پھر آ گئے زمانے

آباد ہوئے شراب خانے

ہر پھول چمن میں زر بہ کف ہے

بانٹے ہیں بہار نے خزانے

سب ہنس پڑے کھلکھلا کے غنچے

چھیڑا جو لطیفہ صبا نے

سر سبز ہوا نہالِ غم بھی

پیدا وہ اثر کیا ہوا نے

رندوں نے پچھاڑ کر پلا دی

واعظ کے نہ چل سکے بہانے

کر دوں گا میں ہر ولی کو میخوار

توفیق جو دی مجھے خدا نے

ہم نے تو نثار کر دیا دل

اب جانے وہ شوخ یا نہ جانے

بیگانۂ مئے کیا ہے مجھ کو

ساقی کی نگاہِ آشنا نے

مسکن ہے قفس میں بُلبلوں کا

ویراں پڑے ہیں آشیانے

اب کاہے کو آئیں گے وہ حسرتؔ

آغازِ جنوں کے پھر زمانے

حسرت موہانی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا