مکاں سے ہوگا کبھی لا مکان سے ہوگا

مکاں سے ہوگا کبھی لا مکان سے ہوگا

مرا یہ معرکہ دونوں جہان سے ہوگا

تو چھو سکے گا بلندی کی کن منازل کو

یہ فیصلہ تری پہلی اڑان سے ہوگا

اٹھے ہیں اس کی طرف کس لیے یہ ہاتھ مرے

کوئی تو ربط مرا آسمان سے ہوگا

یہ جنگ جیت ہے کس کی یہ ہار کس کی ہے

یہ فیصلہ مری ٹوٹی کمان سے ہوگا

بنا پڑے گی جدائی کی جس کو کہنے سے

ادا وہ لفظ بھی میری زبان سے ہوگا

تیمور حسن تیمور

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان