مچلتی ہیں تری یادیں بہاروں میں

مچلتی ہیں تری یادیں بہاروں میں
چلے بادِ صبا جیسے شراروں میں

صنم ہم رِند ٹھہرے ہیں مگر سن لو
ہمارا نام بھی ہے تیرے پیاروں میں

تجھے دیکھا جہاں کی بھیڑ میں ایسے
کہ جیسے چاند دِکھتا ہو ستاروں میں

مقدر تو نہیں ہے بےوفا میرا
اگر ہوتا تمہیں ملتے اجاروں میں

تحیُّر ہے مجھے تیرے سوالوں پر
کہ مجنوں منفرد ہے کیوں ہزاروں میں

نہ کر دعوے محبت کے تو اتنے جاں!
ابھی کمزوری ہے تیرے سہاروں میں

ہے "کُن” کی طاقتوں والا وہ الله زیب
کہ چلتا ہے جہاں جس کے اشاروں میں

محمد شاہ زیب احمد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی