مار بھی آسان ہے دشنام سہل

مار بھی آسان ہے دشنام سہل
یار اگر ہے اہل تو ہے کام سہل

جوں نگیں میں کی جگرکاوی بہت
کیا نکلتا ہے کسو کا نام سہل

جان دی یاروں نے تب آنکھیں لگیں
کن نے پایا آہ یاں آرام سہل

مدعی ہو چشم شوخ یار کا
کیا نگاہوں میں ہوا بادام سہل

تم نے دیکھا ہو گا پکپن میر کا
ہم کو تو آیا نظر وہ خام سہل

میر تقی میر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان