مآلِ جاں نثاری شدتِ غم ہے جہاں تو ہے

مآلِ جاں نثاری شدتِ غم ہے جہاں تو ہے
وہاں الفت نہیں الفت کا ماتم ہے جہاں تو ہے

قناعت کا پھریرا ہے یہاں بامِ عقیدت پر
وفا کی قبر پر نفرت کا پرچم ہے جہاں تو ہے

تری فطرت جوابِ غمگساری دے نہیں سکتی
چراغ احساس کا سینے میں مدھم ہے جہاں تو ہے

خدا کا خوف کر غارت گرِ جنسِ شکیبائی
سکونِ عشق کا شیرازہ برہم ہے جہاں تو ہے

احسان دانش

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا