لو ہوں مگر چراغ کے اندر نہیں ہوں میں

لو ہوں مگر چراغ کے اندر نہیں ہوں میں
اتھلی سیاہیوں کو بھی ازبر نہیں ہوں میں

دیوار ہوں اور ایک جبیں کا سوال ہوں
سمٹے ہوئے قدم کے لیے در نہیں ہوں میں

آنکھوں کے پار آخری ندی ہے نیند کی
ندی کی تہہ میں رینگتا پتھر نہیں ہوں میں

شیشے کے اس طرف بھی دکھائی نہیں دیا
پانی کے انجماد سے بہتر نہیں ہوں میں

کچھ پیڑ آ رہے ہیں مری دھوپ چھانٹنے
سورج کے اختیار سے باہر نہیں ہوں میں

ارشاد نیازی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی