لیا چیرہ دستی سے گر میر سر تک

لیا چیرہ دستی سے گر میر سر تک
نہ پہنچا کبھو ہاتھ اس کی کمر تک

مجھے نیند کیسی کہ مانند انجم
کھلی رہتی ہیں میری آنکھیں سحر تک

اٹھا پاس بے اختیاری سے سب کا
بکا بیٹھے کرتے ہیں دو دو پہر تک

دماغ اور دل ہیں سراسیمہ دونوں
سرزخم شاید کہ پہنچا جگر تک

بلا شور و ہنگامہ ہے دل زدوں کا
قیامت کیے جائے ہے اس کے گھر تک

نہ دے ماریں چوکھٹ سے سر کو تو کہیو
رسائی ہوا چاہیے اس کے در تک

محبت میں جی سے گئے میر آخر
خبر گفتنی ہے یہ ہر بے خبر تک

میر تقی میر

Related posts

میں مقتول قاتل ہوں

نوحہ ایک دھرتی کا

اسیرِ بے زباں