لمحوں میں بھلا دی ہے شناسائی

لمحوں میں بھلا دی ہے شناسائی، محبت؟
کیا اب ہمیں اس موڑ پہ لے آئی محبت؟

سورج کی طرح دل پہ عیاں جلوہِ جاناں
بادل کی طرح آنکھوں نے برسائی محبت

کیوں آج خسارے پہ ترے اشک بہے ہیں؟
لگتا ہے کسی نے نہیں سمجھائی محبت

دینار میسر ہیں تو ہیں یار میسر
بازار میں بکنے کو چلی آئی محبت

جب یاد میں تڑپیں تو محبت کو بڑھا دیں
خود دردِ محبت کی مسیحائی محبت

دنیا! ترا مجرم ہے، اسے تو ہی سزا دے
رسماً تھی گنہ، زیؔن نے دہرائی محبت

زین علی آصف

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی