لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ گئے

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ گئے
ہم لوگ خاک اوڑھ کے قبروں میں آ گئے

آ جا کہ اب تو سارا زمانہ بدل گیا
خانہ بدوش لوگ بھی شہروں میں آ گئے

مدت کے بعد آئینہ دیکھا تو رو پڑا
اندر کے درد چہرے کی جھریوں میں آ گئے

اتنی سُبُک روی سے چلی ہے یہ زندگی
رستے کے گرد باد بھی روحوں میں آ گئے

یہ کس کی یاد نے درِ دل کھٹکھٹا دیا
دریا کہاں سے بانجھ سی آنکھوں میں آ گئے

کس کم سخن کی خامشی پھیلی ہے صحن میں
یہ کس کے خدّ و خال گلابوں میں آ گئے

ایسی حوادثات کی لُو چل پڑی ہے یار
مخمل مزاج خاک کی بانہوں میں آ گئے

بوڑھے مورخین نے روتے ہوۓ لکھا
آخر چراغ رات کی باتوں میں آ گئے

جانے کہاں لے جاۓ گی میثم یہ زندگی
اب تو غبارِ راہ دریچوں میں آ گئے

میثم علی آغا

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

تقوی کی اعلی مثال