لگ کے بیٹھا تھا ایک کونے سے

لگ کے بیٹھا تھا ایک کونے سے
تازہ دم ہو گیا ہوں رونے سے

یہ جواں سال ہو گیا بوڑھا
اک تجسس کا بوجھ ڈھونے سے

خواب آنکھوں پہ بار ہوتے ہیں
میں بہت تھک گیا ہوں سونے سے

دل بھی کتنا عجیب ہوتا ہے
جو بہلتا نہیں کھلونے سے

وہ محبت نہیں ملی ہم کو
واقعہ رہ گیا ہے ہونے سے

مثل یعقوب بھی نہیں ہم لوگ
آنکھیں اندھی ہیں پھر بھی رونے سے

ہم فقط خون روئیں گے راشدؔ
ہم رہے شہر کو ڈبونے سے

راشد امام

Related posts

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

ملازمت بہتر یا کاروبار

زندگی بھر فکر کرتے رہے