لب و رخسار و جبیں سے ملئے

لب و رخسار و جبیں سے ملئے
جی نہیں بھرتا کہیں سے ملئے

یوں نہ اس دل کے مکیں سے ملئے
آسماں بن کے زمیں سے ملئے

گھٹ کے رہ جاتی ہے رسوائی تک
کیا کسی پردہ نشیں سے ملئے

کیوں حرم میں یہ خیال آتا ہے
اب کسی دشمن دیں سے ملئے

جی نہ بہلے رم آہو سے تو پھر
طائر سدرہ نشیں سے ملئے

بجھ گیا دل تو خرابی ہوئی ہے
پھر کسی شعلہ جبیں سے ملئے

وہ کوئی حاکم دوراں تو نہیں
مت ڈریں ان کی نہیں سے ملئے

ابنِ صفی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا