کیوں میں تیری دہائی دینے لگا

کیوں میں تیری دہائی دینے لگا
شہر کیسا دکھائی دینے لگا

لو غم آشنائی دینے لگا
میں جہاں کو دکھائی دینے لگا

اے خیال ہجوم ہم سفراں
تو بھی داغ جدائی دینے لگا

کون اندر سے اٹھ گیا باقیؔ
شور دل کا سنائی دینے لگا

باقی صدیقی

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں