کیوں اُسی شخص سے ملنے کا بہانہ چاہوں

کیوں اُسی شخص سے ملنے کا بہانہ چاہوں
جس کے سائے سے بھی میں دِل کو بچانا چاہوں
جانتی ہوں کہ نہیں رہ گزر یہ اُس کی
بام پر پھر بھی دِیا روز جلانا چاہوں
مات پر اُس کی بھی ہونا ہے پشیمان بہت
اور اِس کھیل میں خود کو بھی جتانا چاہوں
حالِ دل اُن کا بھی سننے کی ہے بے تابی سی
اور سب درد میں اپنے بھی بتانا چاہوں
وہ سمجھتا ہے مری آنکھ کے سارے موسم
حال جس شخص سے میں دل کا چھپانا چاہوں

شازیہ اکبر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا