کچھ تو ڈوبے دل کو ابھارو

کچھ تو ڈوبے دل کو ابھارو
اے ہستی کے خام سہارو

دنیا دارو! اتنی نفرت!
اتنی نفرت! دنیا دارو!

میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو
کوئی بات کرو غم خوارو!

موجیں اور پابندیٔ دریا
ہٹ جاؤ رستے سے کنارو!

کوئی جھٹک دے دامن باقیؔ
اتنے بھی پاؤں نہ پسارو!

باقی صدیقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی