کون وہ گرد اڑاتا ہے

کون وہ گرد اڑاتا ہے سرِ راہِ گزر
ہائے وہ جھونکا ہوا کا ہے سرِ راہِ گزر

اب تو آجا کہ تری دید کی خاطر ہم نے
اپنی آنکھوں کو لگایا ہے سرِ راہِ گزر

انتظار ،آس، اور امید بھری آنکھوں سے
اک مسافر ہے جو بیٹھا ہے سرِ راہِ گزر

دل کی امید، کی امید بڑھانے کے لیے
ایک دیپ اور جلایا ہے سرِ راہِ گزر

چند موڑ ایسے ملے راہِ محبت میں مجھے
یاد شدتِ سے وہ آیا ہے سرِ راہِ گزر

 

خود پہ رہتا ہی نہیں ضبط، مرے پیاروں کا
بند دروازہ جب آتا ہے سرِ راہِ گزر

اس کو ابصار رہے گی کہاں منزل کی طلب
ہمسفر جس کا بچھڑتا ہے سرِ راہِ گزر

احمد ابصار

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی