کوئی نغمہ تو در سے پیدا ہو

کوئی نغمہ تو در سے پیدا ہو
آپ ہوں یا ہوا کا جھونکا ہو

وہ نظر بھی نہ دے سکی تسکیں
اے دل بے قرار اب کیا ہو

کام آتے نہیں تماشائی
ایک ساتھی ہو اور اپنا ہو

وہ اندھیروں کے طور کیا جانے
جس کے گھر میں چراغ جلتا ہو

دل سے اک بات کر رہے ہیں ہم
پاس بیٹھا نہ کوئی سنتا ہو

اس کے غم کا علاج کیا باقیؔ
بے سبب جو اداس رہتا ہو

باقی صدیقی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل