کوئی مختار اور کوئی مجبور

کوئی مختار اور کوئی مجبور
خوب ہے تیری بزم کا دستور

غم زدوں کا نہ پوچھئے مقدور
موت بھی دور، زندگی بھی دور

ظلمت زیست کی بساط ہی کیا
مے کا اک گھونٹ اور نور ہی نور

کیا بتائیں کہ زندگی کیا ہے
ایک منزل مگر قریب نہ دور

وضعداری بھی سیکھ لے باقیؔ
یہ بھی ہے اک جہان کا دستور

باقی صدیقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی