کوئی میرے خوابوں سے مجھ کو نکالے
یہ دوزخ کے دروازے
جو میری آنکھوں کی دوجی طرف کھل رہے ہیں
میں کیا دیکھتی ہوں
کہیں میں ہوں اور واہموں کا تسلسل
مسلسل مجھے نوچتا ہے
کہیں میں اذیت کی نوکِ سناں سے رگیں چیرتی ہوں کہیں خوف کے بِچھُّو اور درد کے اژدھے
میری سانسوں کی چادر تلے رینگتے ہیں
کہیں وحشتوں کے موہانے سے اشکوں کے چشمے ابلتے پڑے ہیں
کہیں مجھ میں پچھتاوں کا ایک آتش فشاں پھٹ پڑا ہے
(یہ زخموں کے پھٹنے سے بالکل الگ تجریہ ہے)
یہ کیسی سزا ہے
کہ میں ایک بے کار و بے سود خواہش کے بے انت رستے پہ
زخموں کی زنجیر سے یہ بدن باندھ کر کھینچتی ہی چلی جاتی ہوں
وقت کا انت ہونے تلک
اپنے ہونے کی دیوار کو چاٹنا ہے
(مگر وقت کا انت ہونا نہیں)…
(اس دفعہ جاگ کر پھر سے سونا نہیں) …
اس گھڑی کوئی تو میری آنکھوں پہ بوسے کا مرہم رکھے اور مجھ کو جگا لے
کوئی میرے خوابوں سے مجھ کو نکالے
بشریٰ شہزادی