کوئی بھی کیوں مجھ سے

کوئی بھی کیوں مجھ سے شرمندہ ہوا
میں ہوں اپنے طور کا ہارا ہوا

دل میں ہے میرے کئی چہروں کی یاد
جانیے میں کِس سے ہوں رُوٹھا ہوا

شہر میں آیا ہوں اپنے آج شام
اک سرائے میں ہوں میں ٹھیرا ہوا

بے تعلق ہوں اب اپنے دل سے بھی
میں عجب عالم میں بے دنیا ہوا

ہے عجب اک تیرگی در تیرگی
کہکشانوں میں ہوں میں لپٹا ہوا

اب ہے میرا کربِ ذات آساں بہت
اب تو میں اس کو بھی ہوں بھُولا ہوا

مال بازارِ زمیں کا تھا میں جون
آسمانوں میں میرا سودا ہوا

 

جون ایلیا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی