کون کہتا ہے منھ کو کھولو تم

کون کہتا ہے منھ کو کھولو تم
کاشکے پردے ہی میں بولو تم

حکم آب رواں رکھے ہے حسن
بہتے دریا میں ہاتھ دھولو تم

کیا سراہیں ہم اپنی جنس کو لیک
دل عجب ہے متاع جو لو تم

جانا آیا ہے اب جہاں سے ہمیں
تھوڑی تو دور ساتھ ہو لو تم

جب میسر ہو بوسہ اس لب کا
چپکے ہی ہو رہو نہ بولو تم

پنجہ مرجاں کا پھر دھرا ہی رہے
ہاتھ خوں میں مرے ڈبولو تم

دست دے ہے کسے پلک سی میل
دل جہاں پائو اب پرولو تم

آتے ہیں متصل چلے آنسو
آہ کب تک یہ موتی رولو تم

رات گذری ہے سب تڑپتے میر
آنکھ لگ جائے ٹک تو سولو تم

میر تقی میر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی