کتنا حسین پھر سے نظارہ بنا دیا

کتنا حسین پھر سے نظارہ بنا دیا
جیسے خدا نے اس کو دوبارہ بنا دیا

آیا تھا امتحان میں مضمون حسن پر
پرچے میں سب نے چہرہ تمہارا بنا دیا

کشتی کو آسرا کوئی تھوڑا سا تو رہے
رنگوں سے بادباں پہ کنارہ بنا دیا

یوسف کے حسن کی ذرا تانیث پوچھ لی
چہرہ ہر ایک نے ہی تمہارا بنا دیا

احسان لے سکا نہ خود اپنا ہی میں عدؔیم
خود کو بھی دوسروں کا سہارا بنا دیا

عدیم ہاشمی 

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا