کسی صبحِ سحر انگیز میں وہ جاگتی آنکھیں

کسی صبحِ سحر انگیز میں وہ جاگتی آنکھیں
مرے خوابوں کے باہر بھی چمکتی ہیں وہی آنکھیں

عجب پردہ نمائی ہے کہ ہم سے بے خبر رہ کر
ہمارے حال پر نگران رہتی ہیں کئی آنکھیں

کسی شامِ ابد آثار سے بچھڑا ہوا یہ دن
بڑی حیرت سے تکتا ہے تری جادو بھری آنکھیں

سو اب اِس باغ میں جگنو بھی اُتریں گے، ستارے بھی
فسوں خیزی پہ مائل ہیں کسی کی شام سی آنکھیں

اگر اِس عشق کی وحشت برابر دیکھنی ہے تو
اُٹھا کر دیکھ رستے سے مری جلتی ہوئی آنکھیں

نکل اِس دشت سے باہر، فضا تبدیل کر اپنی
اُٹھا کر خاک سے چہرے پہ رکھ نیلی، ہری آنکھیں

میں وحشی ہوں سو اک دن دشت کو ٹھوکر میں رکھ لوں گا
میں لے لوں گا سمندر سے وہ جیتی جاگتی آنکھیں

سید کامی شاہ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی