کسی سے اور تو کیا

کسی سے اور تو کیا گفتگو کریں دل کی

کہ رات سن نہ سکے ہم بھی دھڑکنیں دل کی

مگر یہ بات خرد کی سمجھ میں آ نہ سکی

وصال و ہجر سے آگے ہیں منزلیں دل کی

جلو میں خواب نما رت جگے سجائے ہوئے

کہاں کہاں لیے پھرتی ہیں وحشتیں دل کی

نگاہ ملتے ہی رنگ حیا کی صورت ہیں

چھلک اٹھیں ترے رخ سے لطافتیں دل کی

نگاہ کم بھی اسے سنگ سے زیادہ ہے

کہ آئنہ سے سوا ہیں نزاکتیں دل کی

دیار‌ حرف و نوا میں کوئی تو ایسا ہو

کبھی کسی سے تو ہم بات کر سکیں دل کی

سر جریدۂ ہستی ہمارے بعد امیدؔ

لہو سے کون لکھے گا عبارتیں دل کی

 

امید فاضلی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان