کسی کو ہم نے یاں اپنا نہ پایا

کسی کو ہم نے یاں اپنا نہ پایا
جسے پایا اسے بیگانہ پایا

کہاں ڈھونڈوں اسے کس طرح پاؤں
کوئ بھی ڈھونڈنے والا نہ پایا

اڑا کر آشیاں صرصر نے میرا
کیا صاف اس قدر تنکا نہ پایا

اسے پانا نہیں آساں کہ ہم نے
نہ جب تک آپ کو کھویا نہ پایا

دوائے درد دل پوچھوں میں کسی سے
طبیب عشق کو ڈھونڈا نہ پایا

ظفر دل جانے یا ہم ، کون جانے
کہ پایا آس میں کیا اور کیا نہ پایا​

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی