کسی کے ہجر میں یوں ٹوٹ کر رویا نہیں کرتے

کسی کے ہجر میں یوں ٹوٹ کر رویا نہیں کرتے

یہ اپنا رنج ہے اور رنج کا چرچا نہیں کرتے

جدائی کی رتوں میں صورتیں دھندلانے لگتی ہیں

سو ایسے موسموں میں آئنہ دیکھا نہیں کرتے

زیادہ سے زیادہ دل بچھا دیتے ہیں رستے میں

مگر جس نے بچھڑنا ہو اسے روکا نہیں کرتے

ہمیشہ اک مسافت گھومتی رہتی ہے پاؤں میں

سفر کے بعد بھی کچھ لوگ گھر پہنچا نہیں کرتے

تنی رسی پہ دریا پار اترنا ہی مقدر ہو

تو پھر سینوں میں غرقابی کا ڈر رکھا نہیں کرتے

ہمیں رسوا کیا اس نیند میں چلنے کی عادت نے

وگرنہ جاگتے میں ہم کبھی ایسا نہیں کرتے

حسنؔ جب لڑکھڑا کر اپنے ہی پاؤں پہ گرنا ہو

تو پھر ایڑی پہ اتنی دیر تک گھوما نہیں کرتے

حسن عباس رضا

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان