کسی چراغ کی لَو کی طرح بکھر گیا میں

کسی چراغ کی لَو کی طرح بکھر گیا میں
پھر اس کے بعد تری روح میں اتر گیا میں

ہر ایک شے تھی بہت مختلف مرے آگے
عطا ہوئی جو بصارت مجھے تو ڈر گیا میں

یقیں ہوا مجھے تقدیر بھی کوئی شہ ہے
وہ یوں کہ ٹوٹتے تارے کے ساتھ مر گیا میں

شجاع شاذ

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی