کس محبت میں پڑ گیا میں بھی

کس محبت میں پڑ گیا میں بھی

تو بھی مجھ کو نہ مل سکا ،میں بھی

عمر کٹتی رہی اور آخر کار

قاش در قاش کٹ گیا میں بھی

رات بھی جاگتی سلگتی رہی

رات بھر جاگتا رہا میں بھی

اک الاؤ کے گرد بیٹھے ہوے

راکھ کا ڈھیر ہو گیا میں بھی

داستاں اس طرح سنائی گئی

رو پڑا وہ بھی،رو پڑا میں بھی

اپنا پہلا ملال یاد آیا

یاد آیا کہ زندہ تھا میں بھی

 

سعود عثمانی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی