کیوں پوچھتے ہو کِس کا زمانا ہے

کیوں پوچھتے ہو کِس کا زمانہ ہے، چُپ رہو
کٹھ پتلیوں کا روز تماشا ہے، چُپ رہو

دریا کی موج موج ہے مستی بھری ہوئی
قلزم کی خامشی کا تقاضا ہے چُپ رہو

آئین کہہ رہا ہے کہ اپنے حقوق لو
منصف نے فیصلے میں یہ لکھا ہے، چُپ رہو

سمجھا رہے ہیں مجھ کو سبھی اپنے غیر بھی
حالاتِ حاضرہ کا تقاضا ہے چُپ رہو

سب کے لبوں پہ چُپ کے ہیں تالے پڑے ہوئے
اس جبر کے نقیب کا کہنا ہے چُپ رہو

طفل و جوان و پیر کو اٹھنا پڑے گا اب
فرمانِ شاہِ وقت کا مُژدہ ہے چُپ رہو

ایوب کے، ضیا کے، مشرف کے بعد اب
جمہوریت کے نام کا پردہ ہے چُپ رہو

پابندیاں لگی ہیں جو اظہارِ رائے پر
حکمِ امیرِ شہرِ *زلیخا* ہے، چپ رہو

عُظمی جٙون

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی