کیوں گرفتار ِ حادثات رہی

کیوں گرفتار ِ حادثات رہی
میں جو وقف ِ غم ِ حیات رہی

موت کا مرحلہ کہاں آئے
زندگی کی لبوں پہ بات رہی

کب یہ چاہا ملے نگاہ ِ کرم
کب میں محتاج ِ التفات رہی

میں اندھیروں کی ہو گئی عادی
میرے دن پہ بھی چھائی رات رہی

میں نے دنیا بسائی شعروں میں
میری اتنی ہی کائنات رہی

روؤں کیوں جیت کو میں اب رانیؔ
میری قسمت میں جبکہ مات رہی

روبینہ صدیق رانی

Related posts

میں مقتول قاتل ہوں

مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف