کیا یہی ہے جس پہ ہم دیتے ہیں جاں

کیا یہی ہے جس پہ ہم دیتے ہیں جاں

یا کوئی دنیائے فانی اور ہے

یوں تو ہر انسان گویا ہے مگر

شیوۂ شیوا بیانی اور ہے

چل رہی ہے جس سے جسمانی مشین

کوئی پوشیدہ کمانی اور ہے

دل نے پیدا کی کہاں سے یہ ترنگ

کوئی تحریک نہانی اور ہے

غیر سمجھا ہے کسے اے ہم نشیں

میرے دل میں بد گمانی اور ہے

تم نے کب دیکھا ہے بے رنگی کا رنگ

بے نشانی کی نشانی اور ہے

اسماعیلؔ میرٹھی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا