کیا کروں اے خدا نہیں جاتا

کیا کروں اے خدا نہیں جاتا
دل سے وہ بے وفا نہیں جاتا

ایک لمحہ سکون بھی دے دے
درد ہر پل سہا نہیں جاتا

مالکا تجھ سے ایک شکوہ ہے
ویسے مجھ سے کیا نہیں جاتا

مسئلہ یہ ہے اس کے گاؤں کو
دوسرا راستہ نہیں جاتا

آ بھی جائے ہوا کا جھونکا گر
سب دیے تو بجھا نہیں جاتا

ہو سکے تو پلٹ کے آ جاؤ
اب اکیلے رہا نہیں جاتا

یاد رکھنا یہ جو محبت ہے
اس سفر میں رکا نہیں جاتا

جاوید مہدی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی