کیا ہے جو نہ سمجھے

کیا ہے جو نہ سمجھے وہ چلو اہلِ زباں سمجھے
ویسے تو ہماری نوا کو کون و مکاں سمجھے

اک دیر تلک مرحلۂِ لفظ و بیاں سمجھے
پھر جاکے کہیں ہم سے وہ اندازِ بیاں سمجھے

پنہاں کِیا ہے مصرعوں میں رنج و الم ہم نے
اس نالۂِ بےباک کو تم سحرِ بیاں سمجھے

اس پر بھی اجابت کہ وہ خط گالیوں سے بھر دے
صد حیف مگر اس پہ کہ وہ اردو زباں سمجھے

پیوند ہوئے خستہ تو کی قہقہوں سے مرہم
اس دورِ ہلاکت میں بھی ہم سود و زیاں سمجھے

 

ناصر زملؔ

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان