خشک آنکھیں اور خالی ہاتھ

سیلاب کے بعد خشک آنکھیں اور خالی ہاتھ

سیلاب اپنی وحشت کے ساتھ آیا، بستیاں بہا لے گیا، فصلیں ڈبو گئی، مویشی مر گئے، اور زندگی کا وہ نظام جو سالوں کی محنت سے تعمیر ہوا تھا، ایک لمحے میں ملیامیٹ ہو گیا۔ پانی آیا اور چلا گیا، لیکن پیچھے جو کچھ چھوڑ گیا وہ صرف مٹی کے ڈھیر نہیں ہیں بلکہ خشک آنکھیں اور خالی ہاتھ ہیں۔ یہ خشک آنکھیں صرف آنسوؤں کے ختم ہونے کی علامت نہیں بلکہ وہ بے بسی ہیں جو الفاظ سے بیان نہیں کی جا سکتیں۔ یہ خالی ہاتھ صرف روٹی کے ٹکڑے کے لیے پھیلتے نہیں بلکہ زندگی کی بحالی کے سوال کے لیے پھیلتے ہیں۔
سیلاب کے بعد گاؤں کے گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ جہاں کل بچوں کی ہنسی گونجتی تھی، وہاں آج خاموشی کا راج ہے۔ کھیت جہاں سبز فصلیں جھومتی تھیں، وہاں صرف کیچڑ اور بربادی کی تصویر رہ گئی ہے۔ مویشی، جو دیہات کے لیے معاشی ریڑھ کی ہڈی ہیں، یا تو بہ گئے ہیں یا بیماریوں کا شکار ہو کر دم توڑ گئے ہیں۔ گھروں کی دیواریں گر گئی ہیں، چھتیں زمین بوس ہو گئی ہیں اور لوگوں کے سروں پر صرف کھلا آسمان ہے۔

سیلاب کے فوراً بعد متاثرین کو سب سے پہلا چیلنج بھوک اور پیاس کا سامنا ہے۔ صاف پانی نایاب ہو گیا ہے اور آلودہ پانی پینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں وبائی بیماریاں جنم لیتے ہیں۔ ہیضہ، ملیریا اور جلدی بیماریاں متاثرین کے جسموں کو کھا رہی ہیں۔ دوا کہاں سے آئے؟ ڈاکٹر کہاں سے ملے؟ اسپتال کہاں قائم ہوں؟ یہ وہ سوال ہیں جو ہر متاثرہ فرد کے ذہن میں بار بار ابھرتے ہیں لیکن جواب کہیں سے نہیں ملتا۔

تعلیم کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے۔ اسکول یا تو پانی میں بہ گئے ہیں یا عارضی کیمپوں میں پناہ گزینوں کے ٹھکانے بن گئے ہیں۔ بچے جو کتابوں میں مستقبل ڈھونڈتے تھے، اب خیموں میں مٹی کے کھلونوں سے کھیل رہے ہیں۔۔
حکومتِ پنجاب نے سیلاب متاثرین کے لیے اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق غیر معمولی اقدامات کیے ہیں اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر مدد فراہم کی ہے۔ اس نے نہ صرف فوری ریلیف کی فراہمی کو یقینی بنایا بلکہ متاثرین کی بحالی کے لیے بھی منصوبہ بندی میں جلدی اور شفافیت کا مظاہرہ کیا۔ ایسے موقع پر جب ہر انسان کو مشکل حالات کا سامنا ہوتا ہے، حکومت نے ثابت کیا کہ مشکل فیصلے کرنے اور وسائل کو بروقت تقسیم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس دوران سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر انسانی ہمدردی اور عملی اقدامات کو ترجیح دی گئی۔ اسی حوالے سے یہ بات قابل ذکر ہے کہ مریم نواز نے سیلاب کے نام پر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا، بلکہ اپنے وسائل اور تنظیمی استعداد سے متاثرین کی مدد کی۔ اگر کوئی اور ہوتا، جیسے عمران خان، تو ممکن ہے کہ وہ اس بحران کو عالمی سطح پر سیاسی موقف یا امداد کی طلب کا ذریعہ بناتا، لیکن حکومتِ پنجاب نے عملی اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا۔

یہ واضح ہے کہ اس کی پوری کوششوں کے باوجود یہ بحران بہت بڑا ہے اور صرف سرکاری اقدامات سے مکمل بحالی ممکن نہیں ہے۔ سیلاب کے اثرات اتنے وسیع اور شدید ہیں کہ متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ قائم ہونے میں مہینوں اور سالوں کا وقت درکار ہے۔ لہٰذا، تمام شہری، خیراتی ادارے اور مقامی کمیونٹی کے افراد کو بھی آگے آ کر متاثرین کی بحالی میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ محض امدادی سرگرمی نہیں، بلکہ انسانی زندگیوں کو سنوارنے اور مستقبل کی بنیاد رکھنے کا موقع ہے۔ اس زخم کا اثر شاید عرصہ دراز تک محسوس ہوگا، لیکن اجتماعی کوششوں اور عملی مدد سے اس درد کو کم کیا جا سکتا ہے اور متاثرین کی زندگیوں کو نئے سرے سے بحال کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کی سنجیدگی اور عوامی شراکت کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا، اور یہی واحد راستہ ہے جو متاثرین کو مستقل سہارا دے سکتا ہے۔

سیلابی حالات میں کئی مخیر حضرات اور فلاحی ادارے آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن سماجی سطح پر ہمارا رویہ اکثر صرف وقتی ہمدردی تک محدود ہے۔ ہم کیمروں کے سامنے راشن کے پیکٹ بانٹتے ہیں، تصاویر سوشل میڈیا پر ڈالتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرض ادا ہو گیا۔ لیکن کیا کسی نے سوچا ہے کہ متاثرہ خاندان کو چند کلو آٹا دینے سے اس کی زندگی بحال ہو سکتی ہے؟ ان کے خالی ہاتھ صرف ایک وقت کی روٹی نہیں مانگ رہے بلکہ روزگار، مکان اور مستقبل کے طلبگار بھی ہیں۔

سیلاب کے بعد کے حالات صرف جسمانی اور معاشی مسائل تک محدود نہیں ہیں بلکہ ذہنی اور نفسیاتی اثرات بھی گہرے ہیں۔ وہ کسان جو اپنی زمین کو اپنی عزت سمجھتا ہے، جب دیکھتا ہے کہ اس کی زمین پر مٹی اور پتھروں کے سوا کچھ باقی نہیں رہا، تو اس کی آنکھوں میں وہ خواب بھی مر گئے ہیں جو اس نے بچوں کی تعلیم اور شادی کے لیے دیکھے تھے۔ بچے رات کو ڈر کر جاگ رہے ہیں کہ کہیں پانی دوبارہ نہ آ جائے۔ عورتیں اپنی اجڑی ہوئی دنیا کو دیکھ کر چپ سادھ رہی ہیں۔ یہ خاموشی بھی ایک چیخ ہے جو ہمیں سنائی نہیں دیتی۔

سیلاب گزر جانے کے بعد اصل چیلنج بحالی کا ہے۔ یہ بحالی مہینوں اور سالوں پر محیط ہے۔ متاثرین کو گھروں کی تعمیر کے لیے پیسہ چاہیے، زمین کی بحالی کے لیے بیج اور کھاد چاہیے، مویشیوں کے لیے امداد چاہیے۔ ہمارے ہاں بحالی کے منصوبے اکثر کاغذوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔ عالمی ادارے کچھ امداد کرتے ہیں لیکن وہ بھی عارضی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ متاثرین یا تو شہروں کا رخ کر کے کچی آبادیوں میں رہائش اختیار کر لیتے ہیں یا اپنی برباد زمینوں پر ایک نئے سیلاب کے انتظار میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ہر سال سیلاب آتا ہے، ہر سال بربادی ہوتی ہے، ہر سال آنکھیں خشک اور ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کب سیکھیں گے؟ ڈیمز اور واٹر مینجمنٹ کے منصوبے کب مکمل ہوں گے؟ نکاسیٔ آب کا نظام کب بہتر بنایا جائے گا؟ متاثرین کی مستقل آباد کاری کب ممکن ہو گی؟ یا ہم ہمیشہ اسی تماش بین قوم کی طرح صرف آفات کے بعد تصویریں دیکھ کر آہیں بھرتے رہیں گے؟

سیلاب کے بعد جو منظر باقی رہتا ہے وہ صرف پانی کے جانے کی کہانی نہیں بلکہ ایک پوری نسل کے خوابوں کے بہنے کی داستان ہے۔ جب پانی اتر جاتا ہے تو زمین پر مٹی اور ملبہ رہ جاتا ہے، لیکن دلوں میں جو خالی پن پیدا ہوتا ہے وہ کبھی نہیں جاتا۔ آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں کیونکہ آنسو ختم ہو چکے ہیں، اور ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں کیونکہ زندگی دوبارہ شروع کرنے کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا۔

یہ کالم محض الفاظ نہیں، بلکہ ان لاکھوں متاثرین کی چیخ ہے جو سیلاب کے بعد بھی انصاف اور بحالی کے منتظر ہیں۔ ان کے خشک آنکھوں اور خالی ہاتھوں کو دیکھ کر اگر ہم اب بھی نہ جاگے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

یوسف صدیقی

Related posts

خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

انجمن پنجاب

تنقید کیا ہے