خُورشید دو زانو ہے

خُورشید دو زانو ہے ، کِرن تخت نشِیں ہے
اِس عہد میں بھی اپنی کوئی بات نہیں ہے

بدلی ہے گُلستاں کی فضا، کیسے کہیں ہم
خم زاغ کی دہلیز پہ ، بُلبُل کی جبیں ہے

قائم ہیں اُسی طرح سے ظُلمت کے ثنا گر
اب بھی یہ زمیں اُن کیلئے خُلد بریں ہے

دُنیا میں امیروں کے ٹِھکانے ہیں بہت اور
جینا بھی یہِیں ہے ہمیں مرنا بھی یہِیں ہے

کیا مُجھ کو سر و کار محلّات سے جالبؔ
محبوب مِرا کچّے مکانوں کا مکیں ہے

(شاعرِ انقلاب)
حبیب جالبؔ 
مجموعۂ کلام :
(اِس شہرِ خرابی میں)

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا