خمار خانے میں صورت

خمار خانے میں صورت جو روبرو نہ رہی
قدح کی بادہ کی ساقی کو آرزو نہ رہی

جو مثلِ بادِ صبا باعثِ بہار ہوئے
وہ کھوئے ایسے کہ خوشبو بھی کوبکو نہ رہی

چمن کی تتلیاں شیریں لبوں سے سیر ہوئیں
کسی کلی کو تمنائے رنگ و بو نہ رہی

جو ایک بار نگاہوں سےسیرِ چشم ہوئے
تمام عمر انھیں حاجتِ سبو نہ رہی

حدودِ حسرتِ وغم کا نہ کچھ حساب رہا
کئی زمانوں سے خود سے بھی گفتگو نہ رہی

ترے کرم پہ ملی زخمِ عشق میں لذّت
سرورِ درد میں مرہم کی آرزو نہ رہی

متاعِ دل تری چاہت کا جب فسوں نہ رہا
زمینِ عشق پہ پھر ویسی ہاؤ ہو نہ رہی

حنا بلوچ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا