خمارِ عشق نے دل کو بھی مبتلا ہے کیا

خمارِ عشق نے دل کو بھی مبتلا ہے کیا
تڑپ نے خواب کے پردے کو آئینہ ہے کیا

کوئی تو زخم چھپا کر بھی مسکرایا ہے
کسی نے صبر کے پہلو کو آسرا ہے کیا

وفا کا قرض تھا جو عمر بھر ادا نہ ہوا
سو ایک خواب نے ہر خواب سے گلا ہے کیا

ہر ایک موڑ پہ تنہائی ساتھ چلتی رہی
ہر ایک درد نے رستے کو ماجرا ہے کیا

محبتوں کا صلہ وہ تو کچھ نہ دے پایا
سو بے وفائی نے وعدوں کو ہی رَبا ہے کیا

گماں کی گرد میں سچائی ڈھونڈتا ہے ابھی
کہ جستجو نے حقیقت کو آئینہ ہے کیا ؟

یہ ثوبیہ ہے کہ جس نے ہر اک گماں کی طرح
خیالِ یار کا اشعار میں ضیا ہے کیا

ثوبیہ راجپوت

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی